ایران کے احتجاج میں 3117 ہلاکتوں کی تصدیق، 2427 افراد شہید قرار

ایرانی حکام اور انسانی حقوق تنظیموں کے اعداد و شمار میں واضح تضاد
ایران بھر میں دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر 3117 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مظاہرے بعد ازاں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کنٹرول کر لیے گئے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق فاؤنڈیشن برائے شہداء و جانبازان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 2427 افراد کو اسلامی قوانین کے تحت “شہید” قرار دیا گیا ہے، جن میں بڑی تعداد سکیورٹی اہلکاروں کی بھی شامل ہے اور انہیں “معصوم” قرار دیا گیا۔

ایرانی مذہبی قیادت نے احتجاجی مظاہروں کو دہشت گردانہ کارروائیاں اور پرتشدد فسادات قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں امریکا کی حمایت حاصل تھی، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ہزاروں عام شہری، جو سیاسی و سماجی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے، سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے مارے گئے اور اصل ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
