واشنگٹن: امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت سے متعلق عائد پابندیوں میں مزید ایک ماہ کے لیے نرمی دینے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو مستحکم رکھنا اور قیمتوں میں اچانک اضافے کو روکنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں عارضی نرمی سے نہ صرف عالمی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ توانائی کے بحران کے خدشات میں بھی کمی آئے گی۔
دوسری جانب ناقدین اس اقدام کو روس کے لیے بالواسطہ ریلیف قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سیاسی و معاشی توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس فیصلے کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر واضح طور پر سامنے آئیں گے، جس سے مارکیٹ کے رجحانات کا تعین ہوگا۔