یورپ کو ایک بڑے توانائی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے عالمی ایندھن سپلائی پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک کے پاس جیٹ فیول کے ذخائر محض چھ ہفتوں کے لیے باقی رہ گئے ہیں، جس کے بعد فضائی آپریشنز اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی تیل سپلائی اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی ہے، اور اگر اس میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ یورپی یونین متبادل راستوں اور سپلائرز کی تلاش میں مصروف ہے، تاہم فوری اور مؤثر حل تاحال دستیاب نہیں۔
ایوی ایشن سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال طول پکڑتی ہے تو پروازوں میں کمی، کرایوں میں نمایاں اضافہ اور کارگو ترسیل میں رکاوٹیں ناگزیر ہو جائیں گی۔ ماہرین اقتصادیات اس بحران کو عالمی معیشت کے لیے ایک نیا امتحان قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی خطرے میں ہے، اور اس کے ممکنہ اثرات نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔