مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا، جسے خطے میں امن کے لیے ایک عارضی مگر مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی کا مقصد سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کو فوری طور پر روکنا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کیا جا سکے اور سفارتی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ بندی خطے میں امن کے قیام کی جانب پہلا قدم ہے اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقل حل کی جانب پیش رفت کرے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی وقتی سکون تو فراہم کر سکتی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے فریقین کو سنجیدہ مذاکرات اور بنیادی تنازعات کے حل کی جانب بڑھنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب رہی تو مستقبل میں طویل المدتی امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، بصورت دیگر خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا