امریکا کا دعویٰ، ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز پر معاہدہ 24 سے 48 گھنٹوں میں متوقع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کے بعد امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ آج یا کل معاہدہ طے پا جائے گا، جس کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو جائے گی۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران تجارتی جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تصدیق کی کہ ایران اور عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ادھر ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تہران اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
اس سے قبل قطر بھی تصدیق کر چکا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق قطر اور عمان دونوں ممالک تجاویز اور معاہدے کے مسودوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات دوبارہ بحال کیے جا سکیں۔
رپورٹس کے مطابق عمان کی ثالثی میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اردو پوائنٹ عوام تک بروقت، مستند اور ذمہ دارانہ خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔