پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہا ہے کہ جب انہیں اندازہ ہوا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل میں کیا تجاویز شامل کی جا رہی ہیں تو فوری طور پر بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کیا گیا، جس کے بعد اجلاس ختم کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بل کے بعض نکات پر سنجیدہ تحفظات موجود تھے، جنہیں مزید مشاورت کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ اس بیان کے بعد بل کے حوالے سے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔