لندن: آبنائے ہرمز میں رواں ہفتے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی کی نظریں ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات پر مرکوز ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر سے جمعرات تک صرف 33 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ گزشتہ ہفتے اسی عرصے میں 50 جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق بحری آمدورفت میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل صرف 4 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں ایک بڑا خام تیل بردار جہاز بھی شامل تھا، جو عراق کے بصرہ آئل ٹرمینل سے تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ ہوا۔
شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد چینی اور بھارتی ریفائنریاں بصرہ سے خام تیل کی ترسیل کے لیے موزوں بحری جہاز تلاش کر رہی ہیں، تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث جہاز مالکان احتیاط برت رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری آمدورفت سے متعلق مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی آ سکتی ہے، بصورت دیگر سپلائی اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔