دو افغان صحافیوں سمیت تین افراد کو عارضی قیام کی اجازت، دیگر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں عارضی قیام کی درخواست دائر کرنے والے دو افغان صحافیوں اور ایک افغان شہری کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ وزارتِ داخلہ کو بھجوا دیا، جبکہ دیگر پانچ درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل بینچ نے افغان صحافیوں، افغان سپریم کورٹ کے ایک جج، افغان ملی اردو کے دو سابق جنرلز اور دیگر افراد کی درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں افغانستان میں جان کو خطرات لاحق ہیں اور انہوں نے مختلف ممالک میں پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں، اس لیے حتمی فیصلے تک انہیں پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بعض درخواست گزاروں کو بیرونِ ملک سے سفارش یا ریفرنس لیٹر بھی موصول ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر افراد ابھی اس مرحلے سے نہیں گزرے۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے دو افغان صحافیوں اور محمد نوید عمری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کا معاملہ وزارتِ داخلہ کو ارسال کر دیا اور ہدایت کی کہ دو ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
عدالت نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی حکم دیا کہ وزارتِ داخلہ کے فیصلے تک ان تینوں درخواست گزاروں کو گرفتار یا ڈی پورٹ نہ کیا جائے، جبکہ باقی درخواستوں پر فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔
پاکستان اردو پوائنٹ عوام تک بروقت، مستند اور ذمہ دارانہ خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔