کشمیر احتجاج کیس، 88 گرفتار افراد شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیج دیے گئے
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کشمیر کے معاملے پر احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے 88 افراد کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ 14 روز کے اندر شناخت پریڈ کا عمل مکمل کر کے تمام ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
ملزمان کو ڈیوٹی جج عبدالغفور کاکڑ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مقدمے سے متعلق ابتدائی کارروائی سے عدالت کو آگاہ کیا۔ عدالت نے شناخت پریڈ مکمل ہونے تک تمام ملزمان کو جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج ہے اور کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
اسی احتجاج کے سلسلے میں سابق سینیٹر مشتاق احمد اور اخونزادہ یوسف زئی کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ روز مشتاق احمد کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
پاکستان اردو پوائنٹ عوام تک بروقت، مستند اور ذمہ دارانہ خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔