ٹرمپ میڈیا کی نئی سروس پر تنقید، مارکیٹ میں غیر منصفانہ برتری کے خدشات
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کو نئی سروس “Truth API” متعارف کرانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سروس کے ذریعے ادارہ جاتی صارفین کو ٹروتھ سوشل پر شائع ہونے والی اہم پوسٹس عام صارفین سے چند لمحے پہلے دیکھنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
بی بی سی اور فنانشل ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق اس سروس کی ممکنہ ماہانہ فیس ایک لاکھ امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے، تاہم کمپنی نے اس قیمت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس سروس کا مقصد ہائی فریکوئنسی اور الگورتھمک ٹریڈنگ کرنے والی کمپنیوں کو تیز رفتار ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مارکیٹ میں فوری فیصلے کر سکیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پالیسی یا سرکاری نوعیت کی معلومات چند سرمایہ کاروں تک پہلے پہنچتی ہیں تو اس سے مارکیٹ میں غیر منصفانہ برتری اور قانونی و اخلاقی سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ امریکی سینیٹرز الزبتھ وارن اور ایڈم شف نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سروس صرف عوامی معلومات کی تیز تر ترسیل فراہم کرتی ہے اور اس کا اندرونی معلومات سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان اردو پوائنٹ عوام تک بروقت، مستند اور ذمہ دارانہ خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔