بلوچستان پر حکومت اور فوج کا ’سیم پیج‘، یہی سوچ اور اپروچ وقت کی ضرورت
آؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں، گولی کسی مسئلے کا حل نہیں اور مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا کوئی جواز نہیں۔ پاکستان اور بلوچستان کا حال اور مستقبل ہمیشہ ایک رہے گا۔
جو لوگ اپنا راستہ درست کرکے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان کی مکمل ترقی ممکن نہیں۔ یہی وہ سوچ اور اپروچ ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
حکومت اور فوج نے بلوچستان کے معاملے پر مل کر قدم بڑھا لیے ہیں۔ امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سازشی عناصر، سہولت کاروں اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم بھی واضح کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں 21 اگست 2026 کا دن بلوچستان کے نام رہا۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کیا، جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور صوبے کے عمائدین نے شرکت کی۔
اس نشست کی خاص بات یہ رہی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے شرکا کے سوالات سنے اور ان کے براہِ راست جوابات دیے۔ اس عمل نے یہ پیغام دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف طاقت سے نہیں بلکہ مکالمے، اعتماد، ترقی اور مشترکہ سوچ سے نکالا جائے گا۔
بلوچستان پاکستان کا اہم اور لازمی حصہ ہے۔ صوبے میں امن و استحکام اور ترقی نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے روشن اور مضبوط مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔