حامد میر نے نام لے کر بتا دیا
پمز آتشزدگی میں نومولود بچوں کی اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ حامد میر نے نام لے کر بتا دیا
اسلام آباد: سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار حامد میر نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی اموات پر ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی ذمہ داری وفاقی حکومت، اسلام آباد انتظامیہ، بالخصوص چیف کمشنر اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق حامد میر نے کہا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کو ایک بڑے ادارے اور انسٹی ٹیوٹ کا درجہ حاصل ہے، تاہم ہسپتال میں بنیادی سہولیات کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔
حامد میر نے پمز ہسپتال میں اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہاں غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کو داخل کرانے یا بیڈ کے حصول کے لیے سفارشوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انہوں نے ہسپتال میں ادویات کی فراہمی اور دیگر انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے پمز میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کو گزشتہ کئی روز سے بعض وزرا کی جانب سے ہسپتال کو پاکستان کے جدید ترین ہسپتالوں میں شمار کیے جانے کے دعووں کے تناظر میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
حامد میر کے مطابق جس نومولود بچوں کے یونٹ میں آگ لگی، وہاں بچوں کو ہنگامی صورتحال میں باہر نکالنے کے لیے مناسب انتظامات اور سہولیات موجود نہیں تھیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی یونٹ کو انتہائی نگہداشت کا وارڈ قرار دیا گیا ہے تو وہاں ایمرجنسی اور حفاظتی سہولیات کا مناسب انتظام کیوں نہیں تھا؟
سینئر صحافی نے بتایا کہ مذکورہ یونٹ کے ایک سابق انچارج ڈاکٹر نے بھی مبینہ طور پر کئی مرتبہ تحریری طور پر حکام کو بنیادی سہولیات کی کمی سے آگاہ کیا تھا، تاہم ان کے مطابق ان شکایات پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔
حامد میر نے کہا کہ پمز ہسپتال میں صرف ایک یونٹ نہیں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی سہولیات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو ہسپتال کے دیگر یونٹس کا بھی دورہ کرنا چاہیے تاکہ زمینی صورتحال سامنے آسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آتشزدگی کے واقعے پر وزرا افسوس کا اظہار تو کر رہے ہیں، تاہم کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حامد میر نے اسلام آباد کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داروں کا تعین ہونے تک معاملے کو نظرانداز نہ ہونے دیں۔
اہم وضاحت: حامد میر کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور ذمہ داری سے متعلق مؤقف ان کا تجزیہ ہے، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔