آبنائے ہرمز کھولنے کے منصوبے پر خدشات، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
,لندن: آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے کے منصوبے سے متعلق نئی تشویش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
Maps
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نئے انتظام پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم مجوزہ قواعد کے حوالے سے بعض خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ ایسے بحری جہاز جنہیں تہران دشمن یا مخالف سمجھتا ہے، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس کے علاوہ مجوزہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی گزرگاہ کی بندش یا محدود آمدورفت عالمی تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق جمعہ کی ابتدائی تجارت میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 99 سینٹ یعنی تقریباً 1.2 فیصد اضافے کے بعد 83.48 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 85 سینٹ یعنی تقریباً 1.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 78.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے باوجود وہاں بحری آمدورفت مکمل طور پر معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان جاری بات چیت میں اگرچہ تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے کسی انتظام پر اتفاق ہوجاتا ہے، تاہم جہازوں کی اقسام، ممکنہ پابندیوں اور جرمانوں سے متعلق شرائط عالمی شپنگ کمپنیوں کے لیے اہم معاملہ بن سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود رہی تو عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر ایران اور عمان کے درمیان ایسا قابلِ عمل انتظام طے پا جاتا ہے جس سے بڑی تعداد میں تجارتی جہاز محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزر سکیں تو عالمی توانائی کی منڈی کو کچھ استحکام ملنے کی توقع ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات برقرار، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
لندن: آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے کے منصوبے سے متعلق نئی تشویش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کار ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے نئے انتظامات پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم مجوزہ قواعد و ضوابط نے عالمی شپنگ اور توانائی کی منڈی میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ایسے بحری جہاز، جنہیں تہران مخالف تصور کرتا ہے، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس کے علاوہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے سے متعلق کسی بھی غیر یقینی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جمعہ کی ابتدائی تجارت میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.2 فیصد اضافے کے بعد 83.48 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 78.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر نہ آ سکی تو عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے اور قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار رہے گا۔