امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ سات روز کی اوسط کے مطابق تقریباً 90 لاکھ بیرل تیل یومیہ آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق خلیجی خطے سے پائپ لائنز اور دیگر برآمدی سہولیات کے ذریعے مزید 50 سے 70 لاکھ بیرل یومیہ تیل عالمی منڈی تک پہنچایا جا رہا ہے۔
کرس رائٹ کے مطابق امریکی فوج، خلیجی اتحادیوں اور بہتر بنائی گئی توانائی کی تنصیبات کی مشترکہ کوششوں کے باعث خطے سے تیل کی ترسیل میں بہتری آئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک سے مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل یومیہ عالمی منڈیوں تک پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صرف اتوار کے روز خلیجی خطے سے 2 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا گیا، جو ان کے بقول کشیدگی سے قبل کی اوسط برآمدات سے بھی زیادہ ہے۔
تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی حقیقی ترسیل کے حجم کے حوالے سے آزادانہ طور پر درست اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹوں کے باعث مختلف ذرائع کے اندازوں میں فرق پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق سخت مؤقف سامنے آتا رہا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔
عالمی منڈی کے لیے آبنائے ہرمز انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یہاں تیل کی ترسیل میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کا اثر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔ موجودہ دعووں کے باوجود صورتحال پر عالمی منڈیوں کی نظر برقرار ہے۔
Solid write-up — learned a lot. Worth trying The Choicer Voicer — for 98+ free browser voice games.. The Choicer Voicer