امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں شرعی قانون کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایک ہی قانونی نظام ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے بعض مقامات پر شرعی قانون کی شکل میں متوازی نظام موجود ہے اور جہاں انہیں ایسا نظر آئے گا اسے ختم کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ موقف ایک لائیو ریڈیو انٹرویو کے دوران قدامت پسند میزبان گلین بیک سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار کیا۔ صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ امریکا میں شرعی قانون پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کریں گے، جس پر انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس کی حمایت کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں قانون کا صرف ایک نظام ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کو امریکا تک محدود نہیں رکھا اور لندن اور پیرس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان شہروں کے بعض علاقوں میں اسلامی قانون ایک الگ طرزِ زندگی کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے کسی متوازی قانونی نظام کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
ٹرمپ کا یہ بیان امریکا میں مذہب، قانون اور تارکینِ وطن سے متعلق جاری سیاسی بحث کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حالیہ امریکی سیاسی مباحث میں بعض ریپبلکن رہنماؤں اور قدامت پسند حلقوں کی جانب سے شرعی قانون کا موضوع بھی اٹھایا جاتا رہا ہے۔
امریکا میں ریاستی اور وفاقی قوانین آئین اور نافذ شدہ قانون کے تحت چلتے ہیں، جبکہ مسلمان شہری اپنے مذہبی عقائد اور عبادات پر عمل کرسکتے ہیں، جیسا کہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اس لیے مذہبی اصولوں پر ذاتی طور پر عمل کرنا اور ریاستی سطح پر متبادل قانونی نظام قائم کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکا میں مذہبی آزادی اور ملکی قانون کے درمیان حدود سے متعلق بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔
دریں اثنا، سوشل میڈیا پر برطانیہ میں مبینہ طور پر شرعی قانون کے نفاذ کے مطالبے سے متعلق ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے۔ الجزیرہ کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق ویڈیو کو بعض حلقوں نے برطانیہ میں ’’اسلامائزیشن‘‘ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا، تاہم ویڈیو کے دعوے کی حقیقت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
Clair et pratique. Essayez WanVideoGen : . WanVideoGen