کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا انکشاف، جناح اور عباسی شہید اسپتال میں فائر الارم سسٹم موجود نہیں
اسلام آباد میں پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جہاں متعدد اسپتالوں میں فائر الارم سسٹم نصب نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے سب سے بڑے اسپتال عباسی شہید میں صرف 13 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں، جبکہ اسپتال میں آج تک فائر ڈرل نہیں ہوئی اور نہ ہی عملے کو فائر سیفٹی کی باقاعدہ تربیت دی گئی ہے۔
اسپتال ذرائع نے بتایا کہ عباسی شہید اسپتال میں فائر الارم سسٹم بھی نصب نہیں، جبکہ ایمرجنسی ایگزٹ کے لیے کوئی مخصوص راستہ موجود نہیں اور ہنگامی صورت حال میں سیڑھیوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ 500 سے 600 مریض جبکہ او پی ڈی میں ایک ہزار سے زائد مریض آتے ہیں۔ اسپتال میں 2 جنریٹرز موجود ہیں، جن میں سے ایک بیک اپ پر رکھا گیا ہے۔
عباسی شہید اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ساجد نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپتال میں فائر سسٹم سے متعلق مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جناح اسپتال میں بھی متعدد فائر ایکسٹنگوشرز کے غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہر وارڈ میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں، تاہم متعدد غیر فعال ہیں، جبکہ اسپتال میں آخری فائر ڈرل 2017 میں ہوئی تھی۔ جناح اسپتال میں بھی فائر الارم سسٹم موجود نہیں ہے۔
جناح اسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان نے بتایا کہ اسپتال میں فائر فائٹنگ کی ٹیم تشکیل دینی ہے، ہر وارڈ میں تقریباً ایک فائر ایکسٹنگوشر موجود ہے جبکہ فائر ڈرل 2017 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کو عملے کی مزید تربیت کے لیے خط لکھیں گے۔
دوسری جانب سول اسپتال کراچی کے ایم ایس ڈاکٹر خالد بخاری نے بتایا کہ اسپتال میں مجموعی طور پر 180 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں اور تمام فائر ایکسٹنگوشرز مکمل طور پر فعال ہیں۔ ان کے مطابق سول اسپتال میں فائر ڈرل بھی سال میں دو مرتبہ کی جاتی ہے۔