ہری پور: ہری پور پولیس نے 10 اگست سے لاپتہ ہونے والی 5 سالہ معصوم آیت نور کے کیس کا سراغ لگا کر چار مبینہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور نے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیس کی تفتیش سے متعلق اہم تفصیلات بیان کیں۔
پولیس کے مطابق آیت نور کے والد شفیق کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد 200 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیجز، سی ڈی آر اور جیو فینسنگ کی مدد سے تفتیش آگے بڑھائی گئی۔ 12 کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیجز کی مدد سے مبینہ ملزمان کی شناخت کی گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں عثمان ولد لقمان، قاسم ولد نثار، طلحہ ولد فرید اور حسن خان ولد سدوزئی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ایک ملزم نے عدالت میں بچی کے اغوا اور قتل سے متعلق اعتراف کیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک خشک کنویں سے بچی کی لاش برآمد کی گئی، جسے ریسکیو 1122 کی مدد سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
بچی کی تلاش کے لیے پولیس، ٹی ایم اے اور واسا کے عملے سمیت 400 سے زائد اہلکاروں نے سرچ آپریشنز میں حصہ لیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے بھی کیس کا نوٹس لیتے ہوئے لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
ننھی آیت نور کے افسوسناک کیس نے شہریوں کو غمزدہ کر دیا ہے، جبکہ اہلِ خانہ اور عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
ہری پور کی 5 سالہ آیت نور کیس میں پولیس نے چار مبینہ ملزمان گرفتار کر لیے، سی سی ٹی وی، سی ڈی آر اور جیو فینسنگ کی مدد سے تفتیش مکمل کرتے ہوئے بچی کی لاش بھی برآمد کر لی گئی۔