ریاض: سعودی حکام نے ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر کے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق عراقی ملیشیاؤں اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے، پاسدارانِ انقلاب کی مبینہ معاونت سے، اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے ڈرونز اور میزائلوں کی ممکنہ نقل و حرکت کا بھی مشاہدہ کیا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی فورسز کو مکمل چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ توانائی کی تنصیبات، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں، جبکہ ان مقامات پر حفاظتی انتظامات مزید مؤثر بنا دیے گئے ہیں۔
سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ تاہم حکام کے مطابق کشیدہ صورتحال کے باوجود ایران سمیت متعلقہ فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار ہیں اور مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔