اسلام آباد: پہلے ہی مہنگائی اور بھاری بجلی بلوں سے پریشان صارفین پر ستمبر میں مزید مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ پاور ریگولیٹر نے سی پی پی اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کے تحت جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
منظوری کی صورت میں ستمبر کے بجلی بلوں میں صارفین سے مجموعی طور پر تقریباً 36 ارب 54 کروڑ روپے اضافی وصول کیے جا سکتے ہیں۔
سی پی پی اے نے جولائی میں بجلی کی پیداوار پر آنے والے اخراجات کی بنیاد پر فی یونٹ 2 روپے 52 پیسے اضافے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جولائی کے دوران مہنگے ایندھن کے استعمال کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدی ایل این جی سے 10.78 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی، جبکہ فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب پانی سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 39.81 فیصد جبکہ مقامی کوئلے کا 10.91 فیصد اور درآمدی کوئلے کا 14.38 فیصد رہا۔ نیوکلیئر ذرائع سے 10.10 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت صرف 3 روپے 2 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
اب اضافے کی منظوری یا مسترد کرنے کا فیصلہ پاور ریگولیٹر کرے گا۔ منظوری کی صورت میں ستمبر کے بجلی بلوں میں صارفین کو اضافی رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔