اسلام آباد: پمز سانحے کو 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود فضا سوگوار ہے، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات جاری ہیں۔ کمیٹی کی جانب سے آج وزیراعظم کو عبوری رپورٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے پمز کے متعلقہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور میڈیکل افسران کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔ کمیٹی نے آگ لگنے کی وجوہات اور ریسپانس سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا۔
تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے فائر بریگیڈ ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے افسران اور ریسکیو آپریشن میں شامل اہلکاروں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔
کمیٹی نے آگ لگنے سے لے کر ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک کی ٹائم لائن، فائر بریگیڈ کے رسپانس اور آپریشن کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کو 48 گھنٹے میں عبوری رپورٹ جبکہ پانچ روز میں مکمل تحقیقات اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ پیش کرنا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری شاہد خان ہیں، جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔
پمز سانحے کی تحقیقات جاری، اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی آج وزیراعظم کو عبوری رپورٹ پیش کرے گی، جبکہ پانچ روز میں مکمل تحقیقات اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جائے گی۔