نیپال تبت سرحد پر تباہ کن سیلاب، 291 غیر ملکی سیاحوں سمیت سیکڑوں افراد لاپتا
نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔ نیپال کے محکمہ سیاحت کے مطابق لاپتا افراد کی ابتدائی فہرست میں 384 مسافر شامل ہیں، جن میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سیلاب نے دریائے بھوٹے کوشی کے اطراف کئی علاقوں کو متاثر کیا، جہاں مکانات، سڑکیں، گاڑیاں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ سیلابی ریلے کی زد میں آکر تباہ ہوگیا۔ فضائی مناظر میں متعدد عمارتیں کیچڑ بھرے پانی میں جزوی طور پر ڈوبی ہوئی دکھائی دیں۔
نیپال کے حکام کے مطابق ابتدائی جائزوں میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ برف اور چٹان کے تودے کے دریا میں گرنے سے پانی کا راستہ بند ہوا اور اچانک سیلابی ریلہ پیدا ہوگیا۔ بعض ابتدائی اطلاعات میں ممکنہ زلزلے کو بھی اس سلسلے میں ایک محرک قرار دیا گیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل وجوہات کا تعین ابھی جاری ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ثانوی آفات سے بچاؤ کے لیے نگرانی اور پیشگی وارننگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی بھی ہدایت کی۔
حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، تاہم تباہ شدہ سڑکوں اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور لاپتا افراد کی تعداد کی مزید تصدیق جاری ہے۔